افسانہ نمبر # 16 “لاش کی پہلی سالگرہ”

0
91

افسانہ نمبر # 16
“لاش کی پہلی سالگرہ”

از قلم : خبیب کنجاہی

عید کے تیسرے روز ہم تینوں نے مقامی قلعے کا رُخ کیا‘ ہر عید پہ ہمارا وہاں جانا ہوتا ہے‘ وہ ایک تاریخی اور خوبصورت قلعہ ہے‘ ساتھ ہی گھنا جنگل ہے۔
بابا سلطان نے ہمیں سارا قلعہ اور ساتھ جنگل دکھانا تھا۔ ہمارے کھانے پینے اور رہنے کا بندوبست بھی اِنہی کے ذمہ تھا۔ عید کے دوسرے روز رات کو ہم اپنی تیاریاں مکمل کر کے سوئے تھے لہذا اگلے دن ہم صبح آٹھ بجے قلعے کے مین داخلی گیٹ تک پہنچے ہی تھے کہ بابا سلطان کھڑے ہمارے منتظر تھے‘ آئیے آئیے! گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا۔
ان کو ہمارے آنے کی خبر تھی اور وقت کا بھی اندازہ تھا کہ ہم کب تک قلعہ پہنچ آئیں گے۔ سب سے پہلے آپکو مبارک ہو کہ آپ قلعے کے نگران انچارج بن گئے ہیں۔ جنگل سے اس بار بھی کوئی لاش ملی کیا؟ میں نے بابا سلطان سے داخلی گیٹ پر کھڑے کھڑے ایک سوال پوچھا۔ رات کو بتاتا ہوں’ بابا سلطان نے جواب دیا۔ ابھی چلو تھوڑی دیر آرام کرو‘ کچھ کھا پی کے پھر قلعہ اور جنگل دِکھاتا۔ گرمیوں کے دن تھے۔ ناشتہ ہم نے راستے میں ہی ایک مشہور اور پسندیدہ ہوٹل سے کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے بابا سلطان ہم سے بہت خفا ہوئے۔ اچھا لسی تو نہیں پی ناں؟ نہیں نہیں وہ تو یہاں سے ہی پیئں گئے۔ بس تھوڑی دیر کے بعد ہم نکل پڑے۔ دن چار بجے تک ہم نے قلعے کی سیر مکمل کی۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد ہم جنگل دیکھنے چلے گئے۔ سنا ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی کی لاش ملتی ہے۔ خیر شام ساڑھے چھ بجے ہم قلعہ واپس آ گئے۔ تھک گئے تھے’ آرام کیلیے ایک کمرہ تیار تھا۔
ہم نے آرام کیا۔ اس بار تو تصویریں ٹھیک بنائیں نا؟ نعمان نے معیز سے پوچھا۔ ہاں یار زبردست’ معیز نے جوابا کہا۔ ویسے یار کیا قلعہ ہے‘ دیکھ کے مزہ آ گیا۔ اتنا صاف’ دلکش’ مضبوط اور مسخر کرنے والا’ نعمان نے مجھے کہا۔ مجھے بھی سب بہت اچھا لگا’ معیز نے بھی اپنا تاثر دیا۔ دونوں دوست نیچے سونے کی تیاریوں اور تصاویر دیکھنے میں مصروف تھے جب میں نے یہ کہا کہ میں آج چھت پہ سووٗں گا‘ مجھے آج نئی کہانیاں سننی ہیں‘ ہاں ہاں تم ہی سنو‘ تم ہی سن اور لکھ سکتے ہو‘ ہم کو ویسے ہی خوف آتا’ نعمان نے کہا۔ ٹھیک ہے شب بخیر’ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ رات گئے بابا سلطان مجھے کہانیاں سناتے رہے‘ آج انھوں نے مجھے دو نئی کہانیاں سنائیں۔ لوگ رات گزارنے کیلیے چٹائیاں وغیرہ ساتھ لے آتے ہیں لیکن لوگ سوتے ہی کب ہیں جو گھومنے آتے ہیں۔ وہ ساری رات جاگتیہیں۔ باربی بی کیو کرتے ہیں۔ اپنی اپنی محفلیں سجاتے ہیں۔ ہلہ گُلہ کرتے ہیں۔ رات ایک دو بجے تک یہی سلسلہ رہتا ہے۔ اس کے بعد ہمیں بھی نیند آگئی وقت کافی ہو چکا تھا۔ میں نے سفر بھی کیا ہوا تھا اس لیے لیٹتے ہی آنکھ لگ گئی۔
ایک زور دار اور خوفناک چیخ نے مجھے اُٹھا دیا۔ میں ڈر گیا تھا۔ بابا سلطان اُٹھے ہوئے تھے۔ بابا کیا ہوا؟ آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تھوڑے تھوڑے کانپ رہے تھے۔ اُن کی آنکھوں میں صاف ڈر دکھائی دے رہا تھا‘ اور پیشانی پہ پسینہ واضع نظر آ رہا تھا۔ لگتا ہے آپ نے کوئی خوفناک خواب دیکھا ہے‘ وہ چپ تھے۔ آنکھیں کھولے‘ پلکیں جپھکائے بغیر جیسے وہ کسی کو دیکھ رہے ہوں یاں کسی گہری سوچ میں ہوں۔ میں نے ڈرتے ڈرتیجیسے ہی اُن کے کندھے پہ ہاتھ رکھا وہ ایک دم سے چونک گئے۔ کچھ نہیں کچھ نہیں! سو جاو تم۔ شاید وہ بتانا نہیں چاہتے تھے۔ ابھی ایک منٹ نہ گزرا ہو گا کہ اک دم سے بولے آج اُس کی سالگرہ ہے۔ سالگرہ؟ کس کی بابا؟ لاش کی؟ کیا کہا! لاش کی؟ ہاں آج لاش کی پہلی سالگرہ ہے۔ میں اس بار واقعی گبھرا گیا۔ شاید بابا سلطان ہوش میں نہیں تھے یاں کوئی آسیب کا سایا ہے۔ کہیں یہ مجھے ڈرانے کیلیے ایسا تو نہیں کر رہے! وہ شاید نہ مرتا۔ میں نے کہا بھی تھا تصویر نہ بنانا۔ اُس نے میری بات نہیں مانی تھی۔ دیکھا نہ بُرا انجام پھر اِس کا۔ اُنہوں نے تصاویر کیوں بنائیں۔ وہ کیوں جنگل گئے۔ بابا سطان خود سے باتیں کرے جا رہے تھے۔ ایک خوفناک واقعہ‘ سب سے خوفناک واقعہ‘ میری زندگی کا سب سے ڈراونا واقعہ۔ انہوں نے بتانا شروع کیا۔ خیر شکر کہ اب وہ اپنے حواص میں تھے۔ میں نے کئی لوگوں کو مرتے‘ تڑپتے‘ پھڑ پھڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے کئی لاشیں خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں اُتاریں‘ کئی مُردے دفنائے۔ کئی ڈراونے واقعات سنے اور دیکھے۔ آج تک مجھے ڈر نہیں لگا۔ پچلھی عید پہ‘ اِنہی دنوں میں دو نوجوان آئے تھے۔ میرے کمرے میں آئے کہنے لگے کہ آپ بابا سلطان ہیں؟ میں نے کہا ہاں! انھوں نے کئی باتیں کیں’ انٹرنیٹ’ چینل وغیرہ کی۔ مجھے زیادہ سمجھ نہ آئی پر اتنا یاد کہ وہ ڈاکیومینٹری بنانا چاہتے تھے۔ میں نے کہا ویڈیو بنانا تو منع بھی نہیں مگر رات کے وقت ویڈیو بنانا منع ہے اور شام سات سے پہلے پہلے جنگل سے واپس لوٹ آنا۔ وہاں رات کو ہر گز ہر گز تصویر اور ویڈیو نہ بنانا۔ ہم تو آئے ہی جنگل میں ویڈیو ریکاڈنگ کیلیے’ دونوں میں سے ایک نوجوان نے کہا تھا۔ ہم نے سنا ہے کہ یہاں جنات‘ چڑیلیں‘ بلائیں وغیرہ ہیں۔ میں نے کہا وہ ہر جنگل میں ہوتے بچو! ہاہا پھر تو آج ہم ریکارڈ کر کہ ہی چھوڑیں گئے۔ اتنا کہہ کے دونوں نکل گئے۔ میں نے بھی بات ان سُنی کر دی۔ رش تھا‘ لوگ آ جا رہے تھے۔
ایک گرج دار اور زور دار چیخ نے سب کو اُٹھا دیا‘ یہ کیسی چیخ تھی۔ میں نے وقت دیکھا تو رات کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ کمرے کی چھت سے نیچے دیکھا تو حال میں بہت لوگ جمع تھے۔ میں بھی بھاگے بھاگے نیچے آیا۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ کوئی بیمار ہو گیا ہے‘ میں غور کیا تو یہ ان میں سے ایک تھا جو صبح اجازت لینے آئے تھے۔ یہ دوسرا لڑکا وہی تھا‘ جو صبح مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہ ویڈیو بنانے ہی تو آیا ہے۔ اِس کو مِرگی کا دورہ پڑا ہے۔ نہیں آسیب کا سایہ ہے۔ نہیں یہ ڈر گیا ہے۔ ہر کوئی اپنا اندازہ لگا رہا تھا۔ مگر کسی کو پکڑنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ سوائے ساتھ آئے نوجوان کے۔ مگر یہ اکیلے اُس کے بس کی بات نہ تھی۔ کیا ہوا اس کو’ میں نے اس کے ساتھ آئے نوجوان سے پوچھا؟ اس کو زور سے پکڑو۔ بازو اور ٹانگیں اس کے پکڑیں گئیں۔ چار پانچ لوگوں نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی مگر ہم دو منٹ تک ناکام نہ رہے۔ اس کے جسم میں اتنی طاقت جانے آ کہاں سے گئی تھی۔ وہ شدت سے تڑپ رہا تھا۔ اس کا جسم اکڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد جا کہ وہ کہیں رُٔکا۔ لوگ سہم گئے تھے۔ ایک خوف طاری تھی۔ نوجوان کی آنکھیں کی پُتلیاں اوپر کو چڑی ہوئیں تھیں۔ اس کی آنکھوں میں سفید لائنیں ایسی پھیلی ہوئیں تھیں جیسے کسی دیوار میں دیراڑیں پڑی ہوں۔ ہاتھ اور پاوں پیچھے کومڑے ہوئے تھے۔
وہ ایسے تڑپ رہا تھا جیسے مچھلی پانی کے باہر تڑپتی ہے۔ شدت ایسی تھی جیسے کسی جانور کو ذبح کر دیا ہو’ جس کی شہہ رگ کاٹ دی گئی ہوئی۔ قلعہ میں سناٹا چھا گیا تھا۔
اب وہ کچھ ٹھیک تھا‘ اِس کا دھیان رکھنا’ میں نے اُس کے دوست کو کہا۔ اِسے پانی پلاو اُس کا منہ ہی نہ کھل رہا تھا۔ بمشکل چند قطرے اس کے منہ میں گئے ہونگے۔ اس کی آواز ایسی تھی کہ لگتا تھا اندر کوئی اور بول رہا ہے۔ اب وہ کچھ بہتر تھا۔ ہماری جان میں جان آئی۔ ابھی ہم وہیں تھے کہ وہ اٹھ کے بیٹھ گیا۔ اس نے ہنسنا شروع کر دیا۔ اس سے لوگ ایسے ڈرے کہ پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن جلد ہی وہ دھڑم پیچھے گرا اور ایسے جیسے مر گیا ہو‘ میں نے دیکھا تو اس کی نبض چل رہی تھی، مگر شاید وہ بہوش ہو گیا تھا‘ اتنے میں اُس کے دوست نے بتایا کہ کبھی کبھی وہ بیمار ہو جاتا ہے۔ مگر خود ہی صیح ہو جائے گا۔ جانے وہ کب مر گیا تھا‘ صبح وہ اٹھا ہی نہیں اس کو جب دیکھا گیا تو وہ دم توڑ چکا تھا‘ اس کی آنکھوں میں خوف تھا‘ آنسو تھے۔ جانے کس چیز کو اس نے دیکھ لیا‘ جانے کیا ہوا۔ مگر جو ہوا تھا بُرا ہوا تھا۔ مجھے اُس کی موت نہیں بھولتی۔ آج اس کو ایک سال ہو گیا ہے۔ آج کے دن وہ مرا تھا۔ بابا سلطان کی آنکھوں میں آانسو تھے‘ اور میرے پہ جیسے سکتہ اور خوف طاری ہو۔ یہ ایک ایسی کہانی تھی جو مجھے لگا ضرور رقم کرنی چاہیے۔ آنے والی عید پہ
بابا سلطان سے سنیں گے کہ وہ کیا نئی کہانی سناتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here